شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
شاعری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 28 ستمبر، 2015

ظلمت میں، اندھیروں میں

ظلمت میں، اندھیروں میں، تُو ہے جیسے نور
ہم ســــر ہــــو نہیں ســــکتے تـرے ماہ و طُور
پھــــــــر کـــــــیوں مـــــایوسی اور نا اُمّیدی؟
 قــــــــدر اپنی کـــــو جان لے تُو میرے مہجور

پیر، 1 جون، 2009

تلاش



وہ جو محبت کی دیوی تھی
کہاں گئی کسی کو نہیں پتہ
وہ جو کانوں میں رس گھولتی تھی
جس کے میٹھے میٹھے بول
کسی کی جان کی دھڑکن تھے
کہاں گئی مجھے تلاش ہے
وہ اتنی شیریں تھی کہ
شہد بھی شرماتی تھی
وہ جب بولتی تھی
کائنات جھوم اٹھتی تھی
مگر اچانک یہ سناٹا
کہیں وہ چاند کی چاندنی تو نہیں بن گئی
نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا
وہ گلاب کی سوگند بن گئی
نہیں نہیں
پھر کہاں ہے
اے پالنہار اس دیوی
کو لوٹادے
کہاں ہے تو ہی جانتا ہے


بدھ، 20 مئی، 2009

تیرے نام

یہ ہوا جو تیرے وجود کوچھوکر میری دل کو جِلادیتی ہےاک سانس ایک نئی زندگیتیرے مقدس وجود سےیہ وجود زندہ ہےیہ ہوا جو تیری وجہ سے معطر ہےکیا پتہ کسی کویہ مہک کیوں ہےکوئی سمجھتا ہے یہگلاب کی مہک ہےکوئی چنبیلی کی بات کرتا ہےمگر میں جانتا ہوںیہ تیرے وجود کوجب چھوکر چلتی ہےتو معطر ہوجاتی ہے

بدھ، 31 دسمبر، 2008

سبطؑ نبیؐ

کیا سنگ دلوں نے سبطؑ نبیؐ  کو بے سروساماں ماردیا
جس دین کا دعوٰی کرتے تھے اس دین کا سلطان ماردیا
یٰسین تو حرزِ جاں تھی انہیں پر تیغ سے طٰہ قتل بھی کی
وہ حافظ تھے قرآں کے مگر اک صاحب قرآں ماردیا
شاعر سید طارق مسعود
شہادت
لہو کے دشت میں اڑتا رہا علم اس کا
وہ پاسدار وفا تھا جفا کے گھاٹ۔۔۔اترا
یہ کون لوگ سر نیزہ ستم نکلے
یہ کس کریم کا بے خانماں قبیلہ۔۔۔ تھا
نئی رتوں کی کہانی سنارہے تھے حسینؑ
تمام موسم امکاں بدل بدل سا گیا
ہوائے زہر کی زد میں تھا شہر سروگلاب
حدیقہء شہؐ  گردوں خزاں نے لوٹ لیا
 شاعر سید طارق مسعود